Table of Contents
Toggleفکرِ جدید تدبر فیلوشپ، ادارہ فکرِ جدید کا ایک نہایت اہم، معنی خیز اور دور رس اثرات کا حامل پروگرام ہے، جو موجودہ عہد کے نوجوانوں کو فکری، روحانی اور وجودی سطح پر متحرک کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ فیلوشپ محض کسی تعلیمی یا تربیتی نشست کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی گہری علمی و انسانی کوشش ہے جو اس سوال سے جنم لیتی ہے: “کیا ہم نے نوجوان کو سننے، سوچنے، اور خاموشی سے اپنے باطن کو دیکھنے کا حق دیا ہے؟”
ادارہ فکرِ جدید نے اس پروگرام کو ان مشاہدات کی بنیاد پر وضع کیا ہے جو بتاتے ہیں کہ آج کا نوجوان بظاہر جدید ٹیکنالوجی، علم اور مواقع سے مزین ہے، مگر اس کی فکری ساخت ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ وہ یا تو روایت میں مقید ہو کر سوال سے محروم ہے، یا جدیدیت کے شور میں اپنا مرکز کھو چکا ہے۔ وہ یا تو مذہبی تعلیمات کو صرف اطاعت کے زاوئیے سے دیکھتا ہے، یا پھر مکمل انکار کی سمت میں چلا جاتا ہے۔ ایسے میں تدبر فیلوشپ ایک ایسا متوازن فکری و روحانی دائرہ تشکیل دیتی ہے جہاں نوجوان صرف علم حاصل نہیں کرتا، بلکہ اپنے وجود کے ساتھ ایک نئے ربط میں داخل ہوتا ہے۔
یہ پروگرام اس گہرے یقین پر مبنی ہے کہ فکری تبدیلی محض کتابوں یا لیکچرز سے نہیں آتی، بلکہ وہ اس لمحے جنم لیتی ہے جب کوئی نوجوان پہلی بار کسی ایسی بات کو سننے پر آمادہ ہو جس سے وہ پہلے اختلاف کرتا رہا ہو۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب تعلیمی اداروں میں رٹے رٹائے نصاب سے نکل کر وہ سوالات کی دنیا میں داخل ہوتا ہے—ایسی دنیا جہاں سوال کرنا جرم نہیں، بلکہ بیداری کی علامت ہے۔
تدبر فیلوشپ دراصل ایک نیا تعلیمی تصور ہے: علم کو تعلق میں ڈھالنے کا تصور، روایت کو مکالمے میں تبدیل کرنے کا تصور، اور اختلاف کو انسانیت کی گہرائی میں جذب کرنے کا تصور۔ یہ پروگرام نوجوانوں کو صرف مذہبی یا سیکولر شناختوں کے خول سے باہر نکال کر ان کی انفرادی انسانیت، فکری آزادی، اور اجتماعی ہم آہنگی کی طرف لے جانے کی سعی ہے۔ ادارہ فکرِ جدید نے اس فیلوشپ کے ذریعے دراصل پاکستان میں علمی و فکری مکالمے کی ایک نئی روایت کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی ہے—ایسی روایت جو اختلاف کو تفریق نہیں، بلکہ تعمیری تعلق کا آغاز سمجھے۔
تدبر فیلوشپ کے انعقاد کا عمل ایک باقاعدہ تعلیمی سرگرمی سے کہیں بڑھ کر ایک فکری اور روحانی تجربے کی منصوبہ بندی ہے، جو مختلف شکلوں اور مقامات میں وقوع پذیر ہوتا ہے—کبھی لاہور میں ادارہ فکرِ جدید کی عمارت میں ایک روزہ نشست کے طور پر، اور کبھی کسی پُرسکون مقام پر تین روزہ رہائشی کیمپ کی صورت میں، جیسے مری، ایبٹ آباد یا اسلام آباد کے آس پاس کے پہاڑی علاقے۔ یہ تنوع محض انتظامی سہولت کے لیے نہیں، بلکہ شرکاء کی ذہنی و جذباتی ضروریات اور مختلف حالات کے مطابق ایک مخصوص فکری فضا قائم کرنے کے لیے رکھا گیا ہے۔
ایک روزہ نشستیں عام طور پر ہر ماہ لاہور کے ادارہ فکرِ جدید (سوئی گیس سوسائٹی، ڈی ایچ اے فیز 5) میں منعقد ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد ایک ایسا ابتدائی مکالمہ شروع کرنا ہوتا ہے جہاں نوجوان سوال اُٹھانے، سننے اور اختلاف کو قبول کرنے کی اخلاقیات سیکھ سکیں۔ ان نشستوں میں وقت کم ہوتا ہے، لیکن گہرائی کبھی کم نہیں ہوتی—کیونکہ یہاں ہر لمحے کو اس شعور کے ساتھ ترتیب دیا جاتا ہے کہ ایک دن بھی کسی کے اندر ایک طویل فکری عمل کو جنم دے سکتا ہے۔
تین روزہ رہائشی کیمپ، جو سال میں چند بار منتخب شرکاء کے لیے ترتیب دیے جاتے ہیں، تدبر فیلوشپ کے زیادہ جامع اور گہرے ورژن ہوتے ہیں۔ ان کیمپس میں ماحول کو ایسی جگہوں پر منتقل کیا جاتا ہے جہاں قدرتی خاموشی، اندرونی سکون اور بیرونی خلوت یکجا ہو جائے—تاکہ شرکاء صرف سیکھنے نہ آئیں، بلکہ اپنے باطن سے جڑنے کا موقع بھی پائیں۔ ان کیمپس میں وقت کی ساخت اس طور پر ترتیب دی جاتی ہے کہ ہر دن نوجوان کو ایک نئی جہت میں داخل کرے: پہلا دن اندر کی طرف سفر، دوسرا دن دوسرے کے ساتھ مکالمہ، اور تیسرا دن اجتماعی شعور اور عملی عزم کا دن۔
کسی بھی تدبر نشست یا کیمپ کی تیاری میں سب سے پہلا اور نازک مرحلہ شرکاء کا انتخاب ہے۔ ادارہ ایک تفصیلی اپلائی فارم جاری کرتا ہے، جو تعلیمی پس منظر سے زیادہ فکری سوالات اور جذباتی کیفیتوں پر توجہ دیتا ہے۔ اس کے بعد مختصر مگر گہرے انٹرویوز کیے جاتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ امیدوار صرف سننے اور سیکھنے کی اہلیت نہیں رکھتا، بلکہ دوسروں کو سننے، اختلاف کو سمجھنے، اور خاموشی کو برداشت کرنے کی اندرونی گنجائش بھی رکھتا ہے۔
کیمپ یا نشست کے دوران ہر سرگرمی—چاہے وہ سیشن ہو، گروپ ڈسکشن ہو، یا چائے کا وقفہ—اس نیت سے ترتیب دی جاتی ہے کہ نوجوانوں میں صرف علم نہ بڑھے، بلکہ ان کی اندرونی کیفیتیں بھی واضح ہوں۔ سیشنز کو لیکچر کی شکل میں نہیں رکھا جاتا، بلکہ مکالمہ، سوال، اور ذاتی کہانیوں کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ مقررین صرف بات کرنے نہیں آتے، بلکہ سننے اور سیکھنے کے لیے بھی موجود ہوتے ہیں۔
کیمپ کی روح وہ ماحول ہے جو یہاں پیدا کیا جاتا ہے: نرم روشنی، پرسکون خاموشی، قدرتی مناظر، اور ایسے لمحات جہاں شرکاء جرنلنگ، تدبری واک، یا رول پلے جیسے تجربات سے گزرتے ہیں۔ یہاں دن کا آغاز شور سے نہیں، خاموشی اور شعور سے ہوتا ہے، اور رات کا اختتام اجتماعی گفتگو یا مراقبے سے۔ ٹیم کے ارکان—زوفین شہباز، احمد بلال اور دیگر—محض منتظمین نہیں بلکہ ہم سفر اور سننے والے ہوتے ہیں، جو ہر شرکاء کو فرداً فرداً جاننے، سہارا دینے، اور اس کے تجربے کی وسعت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یوں یہ کیمپ—چاہے ایک دن کا ہو یا تین دن کا—نوجوان کو صرف ایک علمی تجربہ نہیں دیتا، بلکہ وہ ایک ایسی داخلی حرکت میں داخل ہوتا ہے جس میں وہ اپنی ذات، دوسرے انسان، اور اپنے رب سے ایک نئے رشتے میں بندھنے لگتا ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جو بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں، لیکن زندگی کے بڑے سوالات کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
تعلیم، اخلاق، اور ایمان —سیکولرزم یا مذہب، تصادم یا توازن (صاحبزادہ امانت رسول)
* مقابلتی الٰہیات، مکالمہ اور صنفی شعور (ڈاکٹر عبدالباسط ظفر، انٹرنیشنل سکالر)
* جذباتی تھراپی، اور ذہنی سکون (حانیہ بتول، حریم جمیل، لمز یونیورسٹی)
* مسلم معاشروں میں خواتین کی تعلیم کے چیلنجز (ڈاکٹر سلیمہ منج)
* معاشرتی شمولیت، تعصب اور ذمہ داریاں (شکیل احمد، ایم فل اسکالر)
* خواتین کا کردار اور سماجی معیارات (سیمل ہاشمی، نیوز اینکر)
* سیاست، قانون، اور نوجوانوں کا کردار (رانا الماس- سیاست دان ، سردار علی- تاریخ دان، قومی اسکالر)
* پیغمبران خدا اور مذہب کا حقیقی تصور (صاحبزادہ امانت رسول)
* اقبال کا پیغام، نوجوان کی آنکھ سے (عرفان بٹ)
* دین کی تعبیرات، بنیادی منھاج فکر (حسن الیاس)
https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSdDzqH8NyCKBVUG4eSghGdJIyL_nM7uQhfKH3gqgbCJQBuZeA/viewform?usp=header
“Secularism or Religion: Conflict or Balance?” (سیکولرازم یا مذہب: تصادم یا توازن؟), led by the distinguished scholar Mr. Amanat Rasul. As part of the ongoing Tadabbur Fellowship initiative, this program seeks to provide young minds with a reflective and dialogical space where critical questions are not only welcomed but encouraged, fostering a culture of intellectual openness, spiritual growth, and balanced inquiry. Participants will have the opportunity to engage in meaningful dialogue, expand their perspectives, and contribute to the evolving discourse on faith, modernity, and coexistence in contemporary society.
The Tadabbur Fellowship – June 2025 will also feature an important session on the theme:
“Issues and Challenges of the Pakistani Judicial System.”
The judiciary is one of the cornerstones of any society, responsible for upholding justice, ensuring accountability, and protecting the rule of law. In Pakistan, however, the judicial system has long faced serious challenges such as case backlogs, delays in justice delivery, lack of accessibility for ordinary citizens, questions of judicial independence, and the influence of political pressures. These issues not only weaken the credibility of the judiciary but also impact the democratic and social fabric of the country.
To address this complex and timely topic, the fellowship will host Rana Almas, a young politician and emerging voice in public affairs. With his keen interest in governance, policy, and law, he brings forward a fresh perspective on how Pakistan’s legal and judicial systems can be reformed to better serve the people. His talk will shed light on the root causes of these challenges and explore possible reforms to create a system that is fair, transparent, and efficient.
“How to Develop Critical Thinking in Youth?”
In today’s world, young people are surrounded by overwhelming streams of information, societal pressures, and ideological divides. The ability to think critically—to question, analyze, and reflect independently—has become more important than ever. Critical thinking not only empowers youth to resist manipulation and shallow narratives but also equips them to become problem-solvers, innovators, and responsible citizens who can shape the future with clarity and confidence.
To lead this important conversation, we are honored to host Mr. Usman Rimzi, a distinguished academic and trainer with expertise in youth development, education, and intellectual engagement. Known for his practical insights and interactive teaching style, Mr. Rimzi has worked extensively on programs designed to sharpen analytical skills, encourage curiosity, and nurture independent reasoning among students.
Copyrights 2025 Idara Fikr-e-Jadeed. All rights reserved